Font by Mehr Nastaliq Web

کیوں درد اٹھا ہے مرے پہلو کے قریں آج

شفا بہاری

کیوں درد اٹھا ہے مرے پہلو کے قریں آج

شفا بہاری

MORE BYشفا بہاری

    کیوں درد اٹھا ہے مرے پہلو کے قریں آج

    مارا نگہ ناز نے پھر تیر کہیں آج

    کیوں زخم جگر دکھتا ہے رہ رہ کے ہمارا

    بل کھاتا ہے کیا گیسو ئے مشکیں کہیں آج

    تربت پہ مرے آئے تو شرما کے یہ بولے

    ہم دیکھنے آئے ہیں لو اٹھو بھی کہیں آج

    کب زلف سیہ روئے مصفا پہ ہے اس کی

    ناگن یہ نکل آئے ہے تا تار کی چین آج

    کل آہ سے گردش میں تھا چرخ ستم ایجاد

    تھرّاتا ہے نالوں سے مرے عرش بریں آج

    گم نور ہوا چاند کا کیوں چھپتے ہیں تارے

    آیا کہیں کوٹھے پہ مرا ماہ جبیں آج

    وحشت میں جو تھے دوست گئے ملک عدم کو

    وامق نہیں مجنوں نہیں فرہاد نہیں آج

    شوخی سے چلے چال ہوا حشر کا ساماں

    اک شور قیامت کا ہوا زیر زمیں آج

    تربت پہ مرے آئے پئے فاتحہ وہ بت

    توفیق تو اتنی اسے خالق دے کہیں آج

    وعدہ کیا جو کل کا تو وہ حشر پہ ٹھہرا

    فردائے قیامت ہو خدا جلد کہیں آج

    اے حضرت رکن آپ کا بندہ یہ شفاؔ ہے

    کیا ہرج ہے خدمت میں جو حاضر ہے نہیں آج

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے