کیوں درد اٹھا ہے مرے پہلو کے قریں آج
کیوں درد اٹھا ہے مرے پہلو کے قریں آج
مارا نگہ ناز نے پھر تیر کہیں آج
کیوں زخم جگر دکھتا ہے رہ رہ کے ہمارا
بل کھاتا ہے کیا گیسو ئے مشکیں کہیں آج
تربت پہ مرے آئے تو شرما کے یہ بولے
ہم دیکھنے آئے ہیں لو اٹھو بھی کہیں آج
کب زلف سیہ روئے مصفا پہ ہے اس کی
ناگن یہ نکل آئے ہے تا تار کی چین آج
کل آہ سے گردش میں تھا چرخ ستم ایجاد
تھرّاتا ہے نالوں سے مرے عرش بریں آج
گم نور ہوا چاند کا کیوں چھپتے ہیں تارے
آیا کہیں کوٹھے پہ مرا ماہ جبیں آج
وحشت میں جو تھے دوست گئے ملک عدم کو
وامق نہیں مجنوں نہیں فرہاد نہیں آج
شوخی سے چلے چال ہوا حشر کا ساماں
اک شور قیامت کا ہوا زیر زمیں آج
تربت پہ مرے آئے پئے فاتحہ وہ بت
توفیق تو اتنی اسے خالق دے کہیں آج
وعدہ کیا جو کل کا تو وہ حشر پہ ٹھہرا
فردائے قیامت ہو خدا جلد کہیں آج
اے حضرت رکن آپ کا بندہ یہ شفاؔ ہے
کیا ہرج ہے خدمت میں جو حاضر ہے نہیں آج
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.