Font by Mehr Nastaliq Web

بہار میں بھی رہا دل نہ شادماں صیاد

سبط الحسنین بلیغ

بہار میں بھی رہا دل نہ شادماں صیاد

سبط الحسنین بلیغ

MORE BYسبط الحسنین بلیغ

    بہار میں بھی رہا دل نہ شادماں صیاد

    مرے چمن میں ہمیشہ نہ رہی خزاں صیاد

    جو عزم باغ مجھے ہو تو کس توقع پر

    نہ باغباں مترحم نہ مہرباں صیاد

    نہ دے گی اذن چمن الفت قفس ہرگز

    جو کر بھی دے گا مجھے مطلق العناں صیاد

    نہ عافیت تھی چمن میں نہ ہے قفس میں چین

    وہاں عدو مرا گلچیں بنا یہاں صیاد

    چمن میں کس سے نہ الفت تھی کون دوست نہ تھا

    مگر نہ تھے تو یہی دونوں باغباں صیاد

    مری زبان ہوئی باعث مرے اسیری کی

    خدا نے دی مجھے بے فائدہ زباں صیاد

    بہار آئے کہ آئے خزاں مجھے کیا کام

    چمن میں میرا ہے کیا اب بھی آشیاں صیاد

    فراق گل میں مصیبت نہ جھیلنی پڑتی

    چھری جو کرتا گلے پر مرے رواں صیاد

    مرے عدو نظر آتے ہیں سارے اہلِ زمیں

    ہے ان دنوں یہ عجب رنگ آسماں صیاد

    قفس میں بھی مجھے رکھتا ہے رات دن پر بند

    مری طرف سے ابھی تک ہے بدگماں صیاد

    بلیغؔ رخصت گلشن ضرور دے مجھ کو

    سنے جو میرے مصیبت کی داستاں صیاد

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے