بہار میں بھی رہا دل نہ شادماں صیاد
بہار میں بھی رہا دل نہ شادماں صیاد
مرے چمن میں ہمیشہ نہ رہی خزاں صیاد
جو عزم باغ مجھے ہو تو کس توقع پر
نہ باغباں مترحم نہ مہرباں صیاد
نہ دے گی اذن چمن الفت قفس ہرگز
جو کر بھی دے گا مجھے مطلق العناں صیاد
نہ عافیت تھی چمن میں نہ ہے قفس میں چین
وہاں عدو مرا گلچیں بنا یہاں صیاد
چمن میں کس سے نہ الفت تھی کون دوست نہ تھا
مگر نہ تھے تو یہی دونوں باغباں صیاد
مری زبان ہوئی باعث مرے اسیری کی
خدا نے دی مجھے بے فائدہ زباں صیاد
بہار آئے کہ آئے خزاں مجھے کیا کام
چمن میں میرا ہے کیا اب بھی آشیاں صیاد
فراق گل میں مصیبت نہ جھیلنی پڑتی
چھری جو کرتا گلے پر مرے رواں صیاد
مرے عدو نظر آتے ہیں سارے اہلِ زمیں
ہے ان دنوں یہ عجب رنگ آسماں صیاد
قفس میں بھی مجھے رکھتا ہے رات دن پر بند
مری طرف سے ابھی تک ہے بدگماں صیاد
بلیغؔ رخصت گلشن ضرور دے مجھ کو
سنے جو میرے مصیبت کی داستاں صیاد
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.