Font by Mehr Nastaliq Web

پابند وفا وعدہ اگر دیکھتے کچھ دن

سبط الحسنین بلیغ

پابند وفا وعدہ اگر دیکھتے کچھ دن

سبط الحسنین بلیغ

MORE BYسبط الحسنین بلیغ

    پابند وفا وعدہ اگر دیکھتے کچھ دن

    پھر جی کے کسی شوخ پہ مر دیکھتے کچھ دن

    جینے کا مزا خضر نے کیا خاک اٹھایا

    دنیا میں کسی پر تو وہ مر دیکھتے کچھ دن

    لو چھپنے لگے ہم سے وہ اب شان خدا کی

    رہتے تھے جنہیں آٹھ پہر دیکھتے کچھ دن

    دل اپنا جو مانوس تھا اک ماہ سے چندے

    شب کٹ گئی ہے شکل قمر دیکھتے کچھ دن

    افسوس کہ پردہ نہ اٹھا چہرہ سے ورنہ

    کیا دن نہیں یہ شمس و قمر دیکھتے کچھ دن

    جنت سے انہیں کام نہ حوروں سے غرض کچھ

    دنیا میں جو ہیں حسن بشر دیکھتے کچھ دن

    پھرنے لگا نظروں میں جو اک دست حنائی

    آنکھوں میں رہے خون جگر دیکھتے کچھ دن

    رہتی نہ تمہیں ابر بہاری کی تمنا

    گر تم طرفِ دیدۂ تر دیکھتے کچھ دن

    برخاستہ خاطر ہوں وطن سے میں بلیغؔ اب

    ہے جی میں تماشائے سفر دیکھتے کچھ دن

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے