پابند وفا وعدہ اگر دیکھتے کچھ دن
پابند وفا وعدہ اگر دیکھتے کچھ دن
پھر جی کے کسی شوخ پہ مر دیکھتے کچھ دن
جینے کا مزا خضر نے کیا خاک اٹھایا
دنیا میں کسی پر تو وہ مر دیکھتے کچھ دن
لو چھپنے لگے ہم سے وہ اب شان خدا کی
رہتے تھے جنہیں آٹھ پہر دیکھتے کچھ دن
دل اپنا جو مانوس تھا اک ماہ سے چندے
شب کٹ گئی ہے شکل قمر دیکھتے کچھ دن
افسوس کہ پردہ نہ اٹھا چہرہ سے ورنہ
کیا دن نہیں یہ شمس و قمر دیکھتے کچھ دن
جنت سے انہیں کام نہ حوروں سے غرض کچھ
دنیا میں جو ہیں حسن بشر دیکھتے کچھ دن
پھرنے لگا نظروں میں جو اک دست حنائی
آنکھوں میں رہے خون جگر دیکھتے کچھ دن
رہتی نہ تمہیں ابر بہاری کی تمنا
گر تم طرفِ دیدۂ تر دیکھتے کچھ دن
برخاستہ خاطر ہوں وطن سے میں بلیغؔ اب
ہے جی میں تماشائے سفر دیکھتے کچھ دن
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.