پھر وہ نظر ہے لطفِ فراواں لیے ہوئے
پھر وہ نظر ہے لطفِ فراواں لیے ہوئے
پھر ساحرہ ہے سحر کا ساماں لیے ہوئے
آزادیوں کی خیر کہ صیاد پھر اٹھا
کاندھوں پہ دام زلفِ پریشاں لیے ہوئے
جوشِ جنوں کو مژدہ کہ پھر کوئی آ گیا
رنگِ بہار و بوئے گلستاں لیے ہوئے
پھر آئے ہیں عیادتِ زخم جگر کو وہ
چٹکی میں اندمال کا ساماں لیے ہوئے
مضطر ہے آنکھ پھر کسی دامن کے واسطے
آغوش میں تلاطم طوفاں لیے ہوئے
پھر مانگتا ہے رحم کسی بے وفا سے دل
انجامِ آرزو سرمژگاں لیے ہوئے
چشمِ امیدوار انہیں دیکھتی ہے پھر
اک اک نظر میں سیکڑوں ارماں لیے ہوئے
بیگانہ وار بیٹھے ہیں اس انجمن میں ہم
اک آرزوئے پرسش پنہاں لیے ہوئے
- کتاب : تذکرہ شعرائے اتر پردیش جلد چودہویں (Pg. 159)
- Author : عرفان عباسی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.