Font by Mehr Nastaliq Web

پھر وہ نظر ہے لطفِ فراواں لیے ہوئے

سبطین بدایونی

پھر وہ نظر ہے لطفِ فراواں لیے ہوئے

سبطین بدایونی

MORE BYسبطین بدایونی

    پھر وہ نظر ہے لطفِ فراواں لیے ہوئے

    پھر ساحرہ ہے سحر کا ساماں لیے ہوئے

    آزادیوں کی خیر کہ صیاد پھر اٹھا

    کاندھوں پہ دام زلفِ پریشاں لیے ہوئے

    جوشِ جنوں کو مژدہ کہ پھر کوئی آ گیا

    رنگِ بہار و بوئے گلستاں لیے ہوئے

    پھر آئے ہیں عیادتِ زخم جگر کو وہ

    چٹکی میں اندمال کا ساماں لیے ہوئے

    مضطر ہے آنکھ پھر کسی دامن کے واسطے

    آغوش میں تلاطم طوفاں لیے ہوئے

    پھر مانگتا ہے رحم کسی بے وفا سے دل

    انجامِ آرزو سرمژگاں لیے ہوئے

    چشمِ امیدوار انہیں دیکھتی ہے پھر

    اک اک نظر میں سیکڑوں ارماں لیے ہوئے

    بیگانہ وار بیٹھے ہیں اس انجمن میں ہم

    اک آرزوئے پرسش پنہاں لیے ہوئے

    مأخذ :
    • کتاب : تذکرہ شعرائے اتر پردیش جلد چودہویں (Pg. 159)
    • Author : عرفان عباسی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے