جہاں کے دو راہ پر یاروں مدار کار غلط
جہاں کے دو راہ پر یاروں مدار کار غلط
نفس کی آمد و شد کو کرو شمار غلط
تمہارے قول کو ہم نے بہت بار دیکھا
کہ نہ ایک بار غلط ہے ہزار بار غلط
جو دیکھا گلشن دوراں کی سیر کر ہم نے
خزاں درست و لیکن کہوں بہار غلط
خدا تو فاعل مختار ہے و لیکن ہم
اسیر جبر ہوئے اور نہ اختیار غلط
علی کے نام سے امجدؔ علی کی حرمت ہے
جہاں میں کون کرے اس کو بے وقار غلط
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.