کب تک رہے یہ حال قیامت کہاں کہاں
کب تک رہے یہ حال قیامت کہاں کہاں
لے جائے گی مجھے یہ ندامت کہاں کہاں
ہر لفظ میں بسی تھی کبھی تیری آرزو
اب پوچھتی ہے مجھ سے محبت کہاں کہاں
سانسیں بچھا کے تجھ کو پکارا ہے بارہا
اب ڈوبتی ہے میری طبیعت کہاں کہاں
ہر رہ گزر میں تیری نشانی کا ذکر ہے
یہ ڈھونڈتی ہے پھر بھی حکایت کہاں کہاں
مجھ سے خفا تھا وقت بھی تیرے فراق میں
پھر بھی لٹائی میں نے امانت کہاں کہاں
یادوں کے قافلے کو سنبھالا بہت مگر
اب تو بکھر رہی ہے عنایت کہاں کہاں
ہر آہ میں بسی تھی تیری چپ نگاہ بھی
اب ڈھونڈتی ہے آنکھ شرارت کہاں کہاں
تیرے لیے ہی زیست کو جھٹلا دیا مگر
اب ہو رہی ہے مجھ سے شکایت کہاں کہاں
تو ہی تھا جس کا نام لیا تھا ہر ایک دم
اب ہو رہی ہے مجھ سے بغاوت کہاں کہاں
امجدؔ نے چھوڑ دی ہے تیری راہ دیکھنا
اب پوچھتی ہے اس سے محبت کہاں کہاں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.