Font by Mehr Nastaliq Web

کب تک رہے یہ حال قیامت کہاں کہاں

سید امجد حسین

کب تک رہے یہ حال قیامت کہاں کہاں

سید امجد حسین

MORE BYسید امجد حسین

    کب تک رہے یہ حال قیامت کہاں کہاں

    لے جائے گی مجھے یہ ندامت کہاں کہاں

    ہر لفظ میں بسی تھی کبھی تیری آرزو

    اب پوچھتی ہے مجھ سے محبت کہاں کہاں

    سانسیں بچھا کے تجھ کو پکارا ہے بارہا

    اب ڈوبتی ہے میری طبیعت کہاں کہاں

    ہر رہ گزر میں تیری نشانی کا ذکر ہے

    یہ ڈھونڈتی ہے پھر بھی حکایت کہاں کہاں

    مجھ سے خفا تھا وقت بھی تیرے فراق میں

    پھر بھی لٹائی میں نے امانت کہاں کہاں

    یادوں کے قافلے کو سنبھالا بہت مگر

    اب تو بکھر رہی ہے عنایت کہاں کہاں

    ہر آہ میں بسی تھی تیری چپ نگاہ بھی

    اب ڈھونڈتی ہے آنکھ شرارت کہاں کہاں

    تیرے لیے ہی زیست کو جھٹلا دیا مگر

    اب ہو رہی ہے مجھ سے شکایت کہاں کہاں

    تو ہی تھا جس کا نام لیا تھا ہر ایک دم

    اب ہو رہی ہے مجھ سے بغاوت کہاں کہاں

    امجدؔ نے چھوڑ دی ہے تیری راہ دیکھنا

    اب پوچھتی ہے اس سے محبت کہاں کہاں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے