پانے کی اس کو دھن ہے سراسر لگی ہوئی
پانے کی اس کو دھن ہے سراسر لگی ہوئی
بیتابیِ دل کو میرے ہے یکسر لگی ہوئی
جانے نہ کس پہر میں چلا آئے میرا یار
میری نظر ہے آٹھوں پہر پر لگی ہوئی
مجھ کو نہیں ہے چین تو وہ بھی ہے بے قرار
دونوں طرف ہے آگ برابر لگی ہوئی
ٹھنڈا نہ کر سکے گا جسے آبِ ہفت بحر
وہ آگ میرے دل کے ہے اندر لگی ہوئی
اب پڑھ لو مجھ پہ فاتحہ اے میرے دوستوں
پیچھے ہیں میرے تیغِ ستم گر لگی ہوئی
ہوگا نہ ہم پہ کچھ بھی دعاؤں کا اب اثرؔ
قاتل نظر ہے شوخ کی ہم پر لگی ہوئی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.