Font by Mehr Nastaliq Web

اسے بوسوں سے فرصت ہے نہ اس کو شکوۂ غم ہے

کاظم علی باغ

اسے بوسوں سے فرصت ہے نہ اس کو شکوۂ غم ہے

کاظم علی باغ

MORE BYکاظم علی باغ

    اسے بوسوں سے فرصت ہے نہ اس کو شکوۂ غم ہے

    بڑی مشکل میں ہیں دونوں دہن تیرا زباں میری

    تم ایسے بے حجابانہ نہ آؤ سامنے میرے

    نظر لگ جائے گی تم کو نصیب دشمناں میری

    انہیں ضد ہے کہ حال درد دل ہم پر نہ ظاہر ہو

    مجھے اصرار ہے اس پر کہ سن لیں داستاں میری

    الٰہی کس غضب میں پڑ گیا ہوں ان کو دل دے کر

    زمانہ تاک میں ہے گھات میں ہے آسماں میری

    کہے گا باغؔ کیا میری طرح میری حقیقت کو

    کہاں سے لائے گا قاصد دہن میرا زباں میری

    مأخذ :
    • کتاب : تذکرہ شعرائے اتر پردیش جلد دسویں (Pg. 80)
    • Author : عرفان عباسی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے