Font by Mehr Nastaliq Web

جذب دل بے اثر نہ ہوجائے

کاظم علی باغ

جذب دل بے اثر نہ ہوجائے

کاظم علی باغ

MORE BYکاظم علی باغ

    جذب دل بے اثر نہ ہوجائے

    کہیں نوع دگر نہ ہوجائے

    دست شوق ان کی زلف کو نہ سنوار

    یہ بلا تیرے سر نہ ہوجائے

    یوں سنور کر نہ سامنے آؤ

    تم کو میری نظر نہ ہوجائے

    ہو کے برہم نہ کھینچ رخ سے نقاب

    صبح کو دوپہر نہ ہوجائے

    میرے رونے پہ تم نہ ہنس دینا

    کہیں آنسو گہر نہ ہوجائے

    شب کو وہ آئیں گے مگر ڈر ہے

    شام ہی سے سحر نہ ہوجائے

    نگہ ناز سے نہ دیکھ مجھے

    جان نذر نظر نہ ہوجائے

    پھوٹ کر باغؔ آبلہ دل کا

    کہیں زخم جگر نہ ہوجائے

    مأخذ :
    • کتاب : تذکرہ شعرائے اتر پردیش جلد دسویں (Pg. 81)
    • Author : عرفان عباسی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے