Font by Mehr Nastaliq Web

تم نہ سمجھو گے بد دعا کیا ہے

کاظم علی باغ

تم نہ سمجھو گے بد دعا کیا ہے

کاظم علی باغ

MORE BYکاظم علی باغ

    تم نہ سمجھو گے بد دعا کیا ہے

    میں سمجھتا ہوں یہ بلا کیا ہے

    ذرہ ذرہ میں ہے ترا جلوا

    توہی تو ہے ترے سوا کیا ہے

    دیکھتا کیوں ہے بار بار مجھے

    مدعی تیرا مدعا کیا ہے

    ایسا بے خود ہوا کچھ نہیں معلوم

    کہ خودی کیا ہے اور خدا کیا ہے

    تو اٹھائے گا بار عشق غلط

    مدعی تیرا حوصلہ کیا ہے

    باغؔ سے مسکرا کے پوچھتے ہیں

    سچ بتا تیرا مدعا کیا ہے

    مأخذ :
    • کتاب : تذکرہ شعرائے اتر پردیش جلد دسویں (Pg. 78)
    • Author : عرفان عباسی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے