Font by Mehr Nastaliq Web

مسکرا کر سنی لگی دل کی

کاظم علی باغ

مسکرا کر سنی لگی دل کی

کاظم علی باغ

MORE BYکاظم علی باغ

    مسکرا کر سنی لگی دل کی

    تم اڑانے لگے نمی دل کی

    جاؤ جاؤ بھی اپنا کام کرو

    اب بجھے گی نہ یہ لگی دل کی

    دل لگا کر کبھی سنا احوال

    دل سے تم نے کبھی سنی دل کی

    بک رہا ہے جنوں میں کیا کیا

    تم بھی سن لو بری بھلی دل کی

    لے کے دل تم نے کر دیا پامال

    خوب مٹی خراب کی دل کی

    باغؔ برسوں بہار آئی گئی

    نہ شگفتہ ہوئی کلی دل کی

    مأخذ :
    • کتاب : تذکرہ شعرائے اتر پردیش جلد دسویں (Pg. 78)
    • Author : عرفان عباسی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے