Font by Mehr Nastaliq Web

یہ ہماری میکشی کا مختصر افسانہ تھا

کاظم علی باغ

یہ ہماری میکشی کا مختصر افسانہ تھا

کاظم علی باغ

MORE BYکاظم علی باغ

    یہ ہماری میکشی کا مختصر افسانہ تھا

    آنکھ ساقی سے لڑی تھی ہاتھ میں پیمانہ تھا

    گوشے گوشے کو مرے دل نے منور کر دیا

    داغ دل کہتے تھے جس کو اک چراغ خانہ تھا

    عمر بھر اس کا تصور خانۂ دل میں رہا

    جس کو کعبہ ہم نے سمجھا تھا وہ اک بت خانہ تھا

    پاس دولت تھی تو بیگانے یگانے جمع تھے

    جب گئی دولت یگانہ تھا نہ وہ بیگانہ تھا

    تو اگر دیتی سہارا دور ہوتیں کلفتیں

    کام اتنا سا ترا اے ہمت مردانہ تھا

    دل کے جانے کا تمہیں کیوں باغؔ ہے رنج و ملال

    جانے دو کمبخت کو مجنوں سا تھا دیوانہ تھا

    مأخذ :
    • کتاب : تذکرہ شعرائے اتر پردیش جلد دسویں (Pg. 79)
    • Author : عرفان عباسی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے