Font by Mehr Nastaliq Web

دم وعدہ نہ وہ آئے نہ کوئی غم گسار آیا

کاظم علی باغ

دم وعدہ نہ وہ آئے نہ کوئی غم گسار آیا

کاظم علی باغ

MORE BYکاظم علی باغ

    دم وعدہ نہ وہ آئے نہ کوئی غم گسار آیا

    نگاہ منتظر میں اضطراب انتظار آیا

    ترے وعدہ کی مدت کو جو گھڑیاں گن کے کاٹا تھا

    انہیں گنتی کی گھڑیوں کو لئے روشن شمار آیا

    طریق عشق میں کیا پہلے دل کو توڑ دیتے ہیں

    جب آیا ٹوٹ کر تجھ پر دل بے اختیار آیا

    یہی وہ باغؔ ہے جب ننگ گلشن جس کو کہتے ہیں

    نہال آرزو میں جس کی بو آیا نہ بار آیا

    مأخذ :
    • کتاب : تذکرہ شعرائے اتر پردیش جلد دسویں (Pg. 80)
    • Author : عرفان عباسی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے