Font by Mehr Nastaliq Web

کِیا ہے اس نے ستم یوں ادا کے پردے میں

سید رضوان راوی

کِیا ہے اس نے ستم یوں ادا کے پردے میں

سید رضوان راوی

MORE BYسید رضوان راوی

    کِیا ہے اس نے ستم یوں ادا کے پردے میں

    جفا نے چال چلی ہے وفا کے پردے میں

    حوالے کر دیا اس نے مجھے اندھیروں کے

    حسین رخ کی تجلی دکھا کے پردے میں

    بتاتی ہیں وہ جھروکوں سے جھانکتی کرنیں

    چھپا ہے حسنِ مجسم حیا کے پردے میں

    انا کو مار مٹا دے تو خواہشیں اپنی

    بقا چھپی ہے ہماری فنا کے پردے میں

    کِیا ہے اس کی شرارت نے مضطرب راویؔ

    نہاں ہوا ہے جو ہم کو ستا کے پردے میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے