کِیا ہے اس نے ستم یوں ادا کے پردے میں
کِیا ہے اس نے ستم یوں ادا کے پردے میں
جفا نے چال چلی ہے وفا کے پردے میں
حوالے کر دیا اس نے مجھے اندھیروں کے
حسین رخ کی تجلی دکھا کے پردے میں
بتاتی ہیں وہ جھروکوں سے جھانکتی کرنیں
چھپا ہے حسنِ مجسم حیا کے پردے میں
انا کو مار مٹا دے تو خواہشیں اپنی
بقا چھپی ہے ہماری فنا کے پردے میں
کِیا ہے اس کی شرارت نے مضطرب راویؔ
نہاں ہوا ہے جو ہم کو ستا کے پردے میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.