کچھ کان بھرا غیر نے بے شبہ کہیں آج
کچھ کان بھرا غیر نے بے شبہ کہیں آج
جو کل تھا مزاج آپ کا مشفق وہ نہیں آج
کل جن کو تھا بالائے زمیں لطف حکومت
ہیں کیسی مصیبت میں پڑی زیر زمیں آج
یوسف بھی جو ہوتت تو وہ گر پڑتے قدم پر
تم سا تو زمانہ میں نہیں کوئی حسیں آج
یکتا ہے ترا حسن خدا داد مری جاں
کوئی بھی حسیں تیرے برابر کا نہیں آج
ہمراہ سر شک ا ٓتے ہیں لختِ دل پر خوں
لو ساتھ میں موتی کے یہ بے جرم نگیں آج
دنیا کی میں پستی و بلندی کو کہوں کیا
کل خاک نشیں ہوں گے جو ہیں فیل نشیں آج
اک شب کا یہاں ساتھ ہے ہنس بول لے ظالم
رہنے دے مری جان چناں اور چنیں آج
میں دشت میں بیٹھا تو لگے پوچھنے وحشی
ہیں قیس کی جا آپ ہی سجا وہ نشیں آج
بگڑے ہوے تیور ہیں خفا بیٹھے ہو جی سے
سچ بولو کسی سے کہیں بگڑے تو نہیں آج
دو جلدی سے لاشہ مرا آغوش میں اس کے
مشتاق بہت ہے مرے تربت کی زمیں آج
دل عاشقِ مضطر کا سن اے بلبلِ شیدا
بےچین ہے سن کر تری آواز حزیں آج
للہ کہیں منہ سے ذرا ہاں بھی نکالو
موقوف کرو بہر خدا اپنی نہیں آج
اب بھی کہیں آ جاؤ کہ دم یاں ہے لبوں پر
ہر دم ہے جدائی میں دمِ باز پسیں آج
کل تک تو ہم اے سیدیؔ سب کچھ تھے و لیکن
کرتے ہی محبت کے یہاں دل ہے نہ دیں آج
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.