Font by Mehr Nastaliq Web

کچھ کان بھرا غیر نے بے شبہ کہیں آج

سیدی عظیم آبادی

کچھ کان بھرا غیر نے بے شبہ کہیں آج

سیدی عظیم آبادی

MORE BYسیدی عظیم آبادی

    کچھ کان بھرا غیر نے بے شبہ کہیں آج

    جو کل تھا مزاج آپ کا مشفق وہ نہیں آج

    کل جن کو تھا بالائے زمیں لطف حکومت

    ہیں کیسی مصیبت میں پڑی زیر زمیں آج

    یوسف بھی جو ہوتت تو وہ گر پڑتے قدم پر

    تم سا تو زمانہ میں نہیں کوئی حسیں آج

    یکتا ہے ترا حسن خدا داد مری جاں

    کوئی بھی حسیں تیرے برابر کا نہیں آج

    ہمراہ سر شک ا ٓتے ہیں لختِ دل پر خوں

    لو ساتھ میں موتی کے یہ بے جرم نگیں آج

    دنیا کی میں پستی و بلندی کو کہوں کیا

    کل خاک نشیں ہوں گے جو ہیں فیل نشیں آج

    اک شب کا یہاں ساتھ ہے ہنس بول لے ظالم

    رہنے دے مری جان چناں اور چنیں آج

    میں دشت میں بیٹھا تو لگے پوچھنے وحشی

    ہیں قیس کی جا آپ ہی سجا وہ نشیں آج

    بگڑے ہوے تیور ہیں خفا بیٹھے ہو جی سے

    سچ بولو کسی سے کہیں بگڑے تو نہیں آج

    دو جلدی سے لاشہ مرا آغوش میں اس کے

    مشتاق بہت ہے مرے تربت کی زمیں آج

    دل عاشقِ مضطر کا سن اے بلبلِ شیدا

    بےچین ہے سن کر تری آواز حزیں آج

    للہ کہیں منہ سے ذرا ہاں بھی نکالو

    موقوف کرو بہر خدا اپنی نہیں آج

    اب بھی کہیں آ جاؤ کہ دم یاں ہے لبوں پر

    ہر دم ہے جدائی میں دمِ باز پسیں آج

    کل تک تو ہم اے سیدیؔ سب کچھ تھے و لیکن

    کرتے ہی محبت کے یہاں دل ہے نہ دیں آج

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے