Font by Mehr Nastaliq Web

نہ دل ہی اب مرا وہ ہے نہ وہ زباں صیاد

سیدی عظیم آبادی

نہ دل ہی اب مرا وہ ہے نہ وہ زباں صیاد

سیدی عظیم آبادی

MORE BYسیدی عظیم آبادی

    نہ دل ہی اب مرا وہ ہے نہ وہ زباں صیاد

    سناؤں کیسے تجھے اپنی داستاں صیاد

    بناوں کون سے گلشن میں آشیاں صیاد

    جہاں نہ ہو ترے ہاتھوں سے خوف جاں صیاد

    ملے گا کچھ بھی جو لیتا ہے مری جاں صیاد

    پروں میں کیا ہے بجز مشت استخواں صیاد

    فراق گل میں تو خود ہی اجڑ رہا ہوں میں

    اجاڑتا ہے تو کیوں مرا آشیاں صیاد

    بہار آئی ہے کر لے شکار ان روزوں

    وگرنہ باغ کہاں میں کہاں کہاں صیاد

    یہ دل میں آتا ہے از خود شکار ہو جاؤں

    ان ابروؤں کی ترے دیکھ کر کماں صیاد

    یہ شرط ہو تو مجھے قید ہے بہ دل منطور

    پہنا دے اپنے ہی گیسو کی بیڑیاں صیاد

    وہ دیکھتا بھی نہیں صید نا توا ں کی طرف

    کہاں شکستہ پری میرے اور کہاں صیاد

    ترا بھی نالوں سے بھر آیا دل جو چھوڑ دیا

    وہ کیا ہوئے جو تھے مرغاں نوحہ خواں صیاد

    جو چھیڑتا ہے تو ظالم سنبھال اپنا دل

    کہ بے اثر نہیں مظلوم کا بیاں صیاد

    سخن شناس کے ہاتھوں تو بیچیو مجھ کو

    سنے گا وہ مرے خوش ہو کے داستاں صیاد

    تو مفت دے گا کسی کو تو اب نہ لے گا مجھے

    کہ رہ گیا ہے فقط مجھ میں استخواں صیاد

    جو ذبح کر تو ٹھکانے لگے تری محنت

    قفس میں کیوں مجھے رکھتا ہے نیم جاں صیاد

    پھڑک پھڑک کے گئی جان ہم صفیروں کی

    الٰہی سنگ دلی تیری الاماں صیاد

    میں دیکھتا ہوں رخ اس کا قفس کے جالوں سے

    کہ ہو کہیں مری حالت پہ مہرباں صیاد

    چھٹا چمن تو نہ جاؤں گا اب ترے در سے

    ہمارا سر ہے ترا سنگ آستاں صیاد

    فراق گلشن و گل میں مری نواسنجی

    سنے گا تو تو کرے گا بہت فغاں صیاد

    حواس عمر بھر آیا نہ سیدیؔ کو کبھی

    لگا جو تیر نظر دل پہ ناگہاں صیاد

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے