نہ دل ہی اب مرا وہ ہے نہ وہ زباں صیاد
نہ دل ہی اب مرا وہ ہے نہ وہ زباں صیاد
سناؤں کیسے تجھے اپنی داستاں صیاد
بناوں کون سے گلشن میں آشیاں صیاد
جہاں نہ ہو ترے ہاتھوں سے خوف جاں صیاد
ملے گا کچھ بھی جو لیتا ہے مری جاں صیاد
پروں میں کیا ہے بجز مشت استخواں صیاد
فراق گل میں تو خود ہی اجڑ رہا ہوں میں
اجاڑتا ہے تو کیوں مرا آشیاں صیاد
بہار آئی ہے کر لے شکار ان روزوں
وگرنہ باغ کہاں میں کہاں کہاں صیاد
یہ دل میں آتا ہے از خود شکار ہو جاؤں
ان ابروؤں کی ترے دیکھ کر کماں صیاد
یہ شرط ہو تو مجھے قید ہے بہ دل منطور
پہنا دے اپنے ہی گیسو کی بیڑیاں صیاد
وہ دیکھتا بھی نہیں صید نا توا ں کی طرف
کہاں شکستہ پری میرے اور کہاں صیاد
ترا بھی نالوں سے بھر آیا دل جو چھوڑ دیا
وہ کیا ہوئے جو تھے مرغاں نوحہ خواں صیاد
جو چھیڑتا ہے تو ظالم سنبھال اپنا دل
کہ بے اثر نہیں مظلوم کا بیاں صیاد
سخن شناس کے ہاتھوں تو بیچیو مجھ کو
سنے گا وہ مرے خوش ہو کے داستاں صیاد
تو مفت دے گا کسی کو تو اب نہ لے گا مجھے
کہ رہ گیا ہے فقط مجھ میں استخواں صیاد
جو ذبح کر تو ٹھکانے لگے تری محنت
قفس میں کیوں مجھے رکھتا ہے نیم جاں صیاد
پھڑک پھڑک کے گئی جان ہم صفیروں کی
الٰہی سنگ دلی تیری الاماں صیاد
میں دیکھتا ہوں رخ اس کا قفس کے جالوں سے
کہ ہو کہیں مری حالت پہ مہرباں صیاد
چھٹا چمن تو نہ جاؤں گا اب ترے در سے
ہمارا سر ہے ترا سنگ آستاں صیاد
فراق گلشن و گل میں مری نواسنجی
سنے گا تو تو کرے گا بہت فغاں صیاد
حواس عمر بھر آیا نہ سیدیؔ کو کبھی
لگا جو تیر نظر دل پہ ناگہاں صیاد
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.