گر یہی ترا رہےگا اے بت عیار کھینچ
گر یہی ترا رہےگا اے بت عیار کھینچ
جامۂ ہستی کو لوں گا تن سے میں اک بار کھینچ
لوٹتا ہے سانپ سینہ پر ہمارے ہر گھڑی
شانہ زلفوں میں نہ ہر دم اے بت عیار کھینچ
غیر ممکن ہے رہائی پنجۂ صیاد سے
ہاتھ اب گلزار سے اے عندلیب زار کھینچ
سر جھکائے دیر سے حاضر ہوں پھرتا خیر کیا
قتل ہی میرا اگر منظور ہے تلوار کھینچ
ایک دن وہ تھا کہ وہ میرے گلے کا ہار تھا
اب بڑھا ئیں ہاتھ کیا لیتا ہے وہ اک بار کھینچ
قسمتوں سے ابر گھر آیا ہے میخوارو اٹھو
شوق سے جام مئے گل رنگ لو دو چار کھینچ
اپنی جا سے وہ نہیں ٹلتے جو ہیں ثابت قدم
ان پہ سو سو بار بہرِ امتحان تلوار کھینچ
عشق میں مجھ کو نہیں اپنے سر و پا کی خبر
کفش کس نے پا سے کھینچا سر سے لے دستار کھینچ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.