Font by Mehr Nastaliq Web

گر یہی ترا رہےگا اے بت عیار کھینچ

تفضل حسین حقیر

گر یہی ترا رہےگا اے بت عیار کھینچ

تفضل حسین حقیر

MORE BYتفضل حسین حقیر

    گر یہی ترا رہےگا اے بت عیار کھینچ

    جامۂ ہستی کو لوں گا تن سے میں اک بار کھینچ

    لوٹتا ہے سانپ سینہ پر ہمارے ہر گھڑی

    شانہ زلفوں میں نہ ہر دم اے بت عیار کھینچ

    غیر ممکن ہے رہائی پنجۂ صیاد سے

    ہاتھ اب گلزار سے اے عندلیب زار کھینچ

    سر جھکائے دیر سے حاضر ہوں پھرتا خیر کیا

    قتل ہی میرا اگر منظور ہے تلوار کھینچ

    ایک دن وہ تھا کہ وہ میرے گلے کا ہار تھا

    اب بڑھا ئیں ہاتھ کیا لیتا ہے وہ اک بار کھینچ

    قسمتوں سے ابر گھر آیا ہے میخوارو اٹھو

    شوق سے جام مئے گل رنگ لو دو چار کھینچ

    اپنی جا سے وہ نہیں ٹلتے جو ہیں ثابت قدم

    ان پہ سو سو بار بہرِ امتحان تلوار کھینچ

    عشق میں مجھ کو نہیں اپنے سر و پا کی خبر

    کفش کس نے پا سے کھینچا سر سے لے دستار کھینچ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے