غصہ میں چلا آتا ہے وہ ترک حسیں آج
غصہ میں چلا آتا ہے وہ ترک حسیں آج
مارے نہ کلیجہ پہ مرے تیرکہیں آج
یارائے تحمل دل مضطر میں نہیں آج
ہے غیر کے پہلو میں جو وہ پردہ نشیں آج
کیا چیں بجبیں رشک سے ہو نافۂ چیں آج
کھولے کہیں جوڑے کو جو اپنی وہ حسیں آج
رکھتا ہے قدم اپنا جو وہ زہرہ جبیں آج
کیا نیک ستارہ ہے ترا خانہ زریں آج
جاتے ہیں چلے گور غریباں کی طرف وہ
ڈرتا ہوں قیامت نہیں برپا ہو کہیں آج
للہ نہ دکھلاؤ مجھے زلفِ سیہ اب
پھر سر میں سمائے مرے سودانہ کہیں آج
سچ کہنا خیال آیا ہے کس شوخ ادا کا
مضطر ہے تو کیوں اس قدر اے جان ِحزیں آج
بےوجہ تڑپ یہ دلِ مضطر میں نہیں ہے
رقصاں ہے مقرر کہیں وہ زہرہ جبیں آج
پہلو میں جگر صدمہ سے پانی تو ہوا رہتا
پاتا ہوں نشاں سینہ میں دل کا بھی نہیں آج
استاد کی دولت سے حقیرؔ اب ہوں سلیماں
اقلیم معانی ہے مرے زیرنگیں آج
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.