Font by Mehr Nastaliq Web

غصہ میں چلا آتا ہے وہ ترک حسیں آج

تفضل حسین حقیر

غصہ میں چلا آتا ہے وہ ترک حسیں آج

تفضل حسین حقیر

MORE BYتفضل حسین حقیر

    غصہ میں چلا آتا ہے وہ ترک حسیں آج

    مارے نہ کلیجہ پہ مرے تیرکہیں آج

    یارائے تحمل دل مضطر میں نہیں آج

    ہے غیر کے پہلو میں جو وہ پردہ نشیں آج

    کیا چیں بجبیں رشک سے ہو نافۂ چیں آج

    کھولے کہیں جوڑے کو جو اپنی وہ حسیں آج

    رکھتا ہے قدم اپنا جو وہ زہرہ جبیں آج

    کیا نیک ستارہ ہے ترا خانہ زریں آج

    جاتے ہیں چلے گور غریباں کی طرف وہ

    ڈرتا ہوں قیامت نہیں برپا ہو کہیں آج

    للہ نہ دکھلاؤ مجھے زلفِ سیہ اب

    پھر سر میں سمائے مرے سودانہ کہیں آج

    سچ کہنا خیال آیا ہے کس شوخ ادا کا

    مضطر ہے تو کیوں اس قدر اے جان ِحزیں آج

    بےوجہ تڑپ یہ دلِ مضطر میں نہیں ہے

    رقصاں ہے مقرر کہیں وہ زہرہ جبیں آج

    پہلو میں جگر صدمہ سے پانی تو ہوا رہتا

    پاتا ہوں نشاں سینہ میں دل کا بھی نہیں آج

    استاد کی دولت سے حقیرؔ اب ہوں سلیماں

    اقلیم معانی ہے مرے زیرنگیں آج

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے