Font by Mehr Nastaliq Web

پرتو رخ سے منور گوشوارا ہو گیا

نا معلوم

پرتو رخ سے منور گوشوارا ہو گیا

نا معلوم

MORE BYنا معلوم

    پرتو رخ سے منور گوشوارا ہو گیا

    جلوہ گر خورشید کے پہلو میں تارا ہو گیا

    ہر لب جاں بخش ہے سرچشمۂ آب حیات

    خال مشکیں خضر کی آنکھوں کا تارا ہو گیا

    جب چڑھی تیوری تری اترا مرا منہ خون سے

    دل تہ و بالا ہوا حشر آشکارا ہو گیا

    اڑ چلا دیکھا نگاہ گرم سے جب یار نے

    بے قراری سے دل بے تاب پارا ہو گیا

    صاف قلعی کھل گئی اس شعلہ رو کے سامنے

    آئینہ ایسا جلا کافور پارا ہو گیا

    حشر کرتا ہے یہ کہنا آپ کا بالائے بام

    لو سوا نیزے پہ سورج آشکارا ہو گیا

    لو لگی ہے اب تو اس کان صباحت سے سحرؔ

    زہرہ جس کے کان کا ہر گوشوارا ہو گیا

    مأخذ :
    • کتاب : Asli Guldasta-e-Qawwali (Pg. 27)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے