پرتو رخ سے منور گوشوارا ہو گیا
جلوہ گر خورشید کے پہلو میں تارا ہو گیا
ہر لب جاں بخش ہے سرچشمۂ آب حیات
خال مشکیں خضر کی آنکھوں کا تارا ہو گیا
جب چڑھی تیوری تری اترا مرا منہ خون سے
دل تہ و بالا ہوا حشر آشکارا ہو گیا
اڑ چلا دیکھا نگاہ گرم سے جب یار نے
بے قراری سے دل بے تاب پارا ہو گیا
صاف قلعی کھل گئی اس شعلہ رو کے سامنے
آئینہ ایسا جلا کافور پارا ہو گیا
حشر کرتا ہے یہ کہنا آپ کا بالائے بام
لو سوا نیزے پہ سورج آشکارا ہو گیا
لو لگی ہے اب تو اس کان صباحت سے سحرؔ
زہرہ جس کے کان کا ہر گوشوارا ہو گیا
- کتاب : Asli Guldasta-e-Qawwali (Pg. 27)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.