Font by Mehr Nastaliq Web

ساقی کو کس نے مجھ سے بیزار کر دیا ہے

نا معلوم

ساقی کو کس نے مجھ سے بیزار کر دیا ہے

نا معلوم

MORE BYنا معلوم

    ساقی کو کس نے مجھ سے بیزار کر دیا ہے

    آنے سے مے کدہ میں انکار کر دیا ہے

    یہ مے کدہ نہ چھوڑوں ساقی سے منہ نہ موڑوں

    مستان معرفت نے ہشیار کر دیا ہے

    بھر دے کوئی پیالی در سے نہ پھیر خالی

    کوثر کا حق نے تجھ کو مختار کر دیا ہے

    در پر ترے پڑا ہوں کس جا یہاں سے جاؤں

    اپنوں سے تونے مجھ کو بیزار کر دیا ہے

    آباد مے کدہ ہو ساقی ترا بھلا ہو

    الفت کا جام دے کر سرشار کر دیا ہے

    غفلت میں سو رہے تھے گمراہ ہو رہے تھے

    ساقی نے رخ دکھا کر دیندار کر دیا ہے

    اٹھیں گے روز محشر ہم نام تیرا لے کر

    دے دے کے تو نے ساغر سرشار کر دیا ہے

    منصور کو پلا کر سر مست اسے بنا کر

    پھر دار پر چڑھا کر سردار کر دیا ہے

    ساقی مرا نرالا کعبہ کا رہنے والا

    ہو اس کا بول بالا سرشار کر دیا ہے

    جام شراب بھر دے مستانہ مجھ کو کر دے

    سب مے کشوں کا تجھ کو سردار کر دیا ہے

    ہے مے کدہ شریعت بھر تو بھی جام وحدت

    اکبر نے تجھ کو احمدؔ مے خوار کر دیا ہے

    مأخذ :
    • کتاب : Majmua-e-Qawwali, Part 4 (Pg. 12)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے