ہم اپنی ہستی مٹا چکے ہیں کسی سے دل کو لگا چکے ہیں
ہم اپنی ہستی مٹا چکے ہیں کسی سے دل کو لگا چکے ہیں
سزا محبت کی پا چکے ہیں غضب کے صدمے اٹھا چکے ہیں
بنے گی غیروں سے کیا محبت کہ بارہا آزما چکے ہیں
ہمیں کریں گے نثار دل کو جو ہاتھ جاں سے اٹھا چکے ہیں
ہے دل میں باقی ابھی کدورت نہیں صفائی کی کوئی صورت
پس فنا بھی ہے مجھ سے نفرت نشان تربت مٹا چکے ہیں
فلک کو کب ہے یہ دست قدرت زمین کو کب ہے یہ تاب و طاقت
ہمیں اٹھائیں گے بار الفت جو ناز تیری اٹھا چکے ہیں
یہ ہم نے مانا یہ ہم نے مانا نہیں ہے منظور ان کو آنا
ہے ایک یہ بھی فقط بہانہ کہ اب تو مہندی لگا چکے ہیں
لباس پہنا ہے اس نے گلگوں یہ فکر مجھ کو ہوئی ہے محزوںؔ
کریں گے شاید کسی کا وہ خوں کمر میں خنجر لگا چکے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.