Font by Mehr Nastaliq Web

ہم اپنی ہستی مٹا چکے ہیں کسی سے دل کو لگا چکے ہیں

نا معلوم

ہم اپنی ہستی مٹا چکے ہیں کسی سے دل کو لگا چکے ہیں

نا معلوم

MORE BYنا معلوم

    ہم اپنی ہستی مٹا چکے ہیں کسی سے دل کو لگا چکے ہیں

    سزا محبت کی پا چکے ہیں غضب کے صدمے اٹھا چکے ہیں

    بنے گی غیروں سے کیا محبت کہ بارہا آزما چکے ہیں

    ہمیں کریں گے نثار دل کو جو ہاتھ جاں سے اٹھا چکے ہیں

    ہے دل میں باقی ابھی کدورت نہیں صفائی کی کوئی صورت

    پس فنا بھی ہے مجھ سے نفرت نشان تربت مٹا چکے ہیں

    فلک کو کب ہے یہ دست قدرت زمین کو کب ہے یہ تاب و طاقت

    ہمیں اٹھائیں گے بار الفت جو ناز تیری اٹھا چکے ہیں

    یہ ہم نے مانا یہ ہم نے مانا نہیں ہے منظور ان کو آنا

    ہے ایک یہ بھی فقط بہانہ کہ اب تو مہندی لگا چکے ہیں

    لباس پہنا ہے اس نے گلگوں یہ فکر مجھ کو ہوئی ہے محزوںؔ

    کریں گے شاید کسی کا وہ خوں کمر میں خنجر لگا چکے ہیں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے