پھر کس طرح سے رازِ محبت عیاں نہ ہو
پھر کس طرح سے رازِ محبت عیاں نہ ہو
کہنے ہی میں جب اپنا دل اپنی زباں نہ ہو
بولے وہ ہاتھ رکھ کے مرے دل پہ وقتِ نزع
جس کے لیے فشار یہاں ہو وہاں نہ ہو
کیا فائدہ جو کہے برا مر مٹوں کو آپ
کیوں ان کا نام لیجیے جن کا نشاں نہ ہو
پیش کریم حشر میں جانو تو سہل ہے
ڈرتا ہوں پر وہی بت ِکافر وہاں نہ ہو
جلنے کا طرز سیکھ لے ہم دل جلوں سے شمع
جل جائیں ہڈیاں بھی تمام اور دھواں نہ ہو
میں نے سوال وصل کیا ہے رہے یہ دھیان
سب کچھ زباں سے نکلے خبردار ہاں نہ ہو
اخفائے عشق میری طرح کون کر سکے
صادقؔ کا راز اور جگر پر عیاں نہ ہو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.