Font by Mehr Nastaliq Web

پھر کس طرح سے رازِ محبت عیاں نہ ہو

نا معلوم

پھر کس طرح سے رازِ محبت عیاں نہ ہو

نا معلوم

MORE BYنا معلوم

    پھر کس طرح سے رازِ محبت عیاں نہ ہو

    کہنے ہی میں جب اپنا دل اپنی زباں نہ ہو

    بولے وہ ہاتھ رکھ کے مرے دل پہ وقتِ نزع

    جس کے لیے فشار یہاں ہو وہاں نہ ہو

    کیا فائدہ جو کہے برا مر مٹوں کو آپ

    کیوں ان کا نام لیجیے جن کا نشاں نہ ہو

    پیش کریم حشر میں جانو تو سہل ہے

    ڈرتا ہوں پر وہی بت ِکافر وہاں نہ ہو

    جلنے کا طرز سیکھ لے ہم دل جلوں سے شمع

    جل جائیں ہڈیاں بھی تمام اور دھواں نہ ہو

    میں نے سوال وصل کیا ہے رہے یہ دھیان

    سب کچھ زباں سے نکلے خبردار ہاں نہ ہو

    اخفائے عشق میری طرح کون کر سکے

    صادقؔ کا راز اور جگر پر عیاں نہ ہو

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے