Font by Mehr Nastaliq Web

مئے ہے گلزار ہے ساقی ہے گھٹا چھائی ہے

نا معلوم

مئے ہے گلزار ہے ساقی ہے گھٹا چھائی ہے

نا معلوم

MORE BYنا معلوم

    مئے ہے گلزار ہے ساقی ہے گھٹا چھائی ہے

    کہہ دو تو بہ شکنوں سے کہ بہار آئی ہے

    جب میں کہتا ہوں کہ اے یار بہار آئی ہے

    ہنس کے فرماتے ہیں کچھ خیر ہی سودائی ہے

    کیا بلا عشق ہے جیتا ہوں تو بدنام ہوں میں

    جان دیتا ہوں تو اس شوخ کی رسوائی ہے

    چھپ کے وہ رشک پری غیر کے گھر جاتا ہے

    اڑتی اڑتی ہوئی ہم نے بھی خبر پائی ہے

    کیا جنوں خیر ہے اس کے گل عارض کی بہار

    کہ جسے دیکھیے خود رفتہ سے سودائی ہے

    لب جاں بخش کا بوسہ جو کیا میں نے طلب

    کہا اس شوخ نے کیا تیری قضا آئی ہے

    دل کو پہلو میں جگہ اس لیے دی ہے میں نے

    کہ یہ فرقت میں انیسِ شبِ تنہائی ہے

    لی خبر اپنے مریضِ شبِ غم کی نہ کبھی

    بس انہیں باتوں پہ دعوائے مسیحائی ہے

    شب فرقت کے جو اے مشتریؔ جاگے تھے ہم

    کیا تہہِ خنجرِ قاتل ہمیں نیند آئی ہے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے