مئے ہے گلزار ہے ساقی ہے گھٹا چھائی ہے
مئے ہے گلزار ہے ساقی ہے گھٹا چھائی ہے
کہہ دو تو بہ شکنوں سے کہ بہار آئی ہے
جب میں کہتا ہوں کہ اے یار بہار آئی ہے
ہنس کے فرماتے ہیں کچھ خیر ہی سودائی ہے
کیا بلا عشق ہے جیتا ہوں تو بدنام ہوں میں
جان دیتا ہوں تو اس شوخ کی رسوائی ہے
چھپ کے وہ رشک پری غیر کے گھر جاتا ہے
اڑتی اڑتی ہوئی ہم نے بھی خبر پائی ہے
کیا جنوں خیر ہے اس کے گل عارض کی بہار
کہ جسے دیکھیے خود رفتہ سے سودائی ہے
لب جاں بخش کا بوسہ جو کیا میں نے طلب
کہا اس شوخ نے کیا تیری قضا آئی ہے
دل کو پہلو میں جگہ اس لیے دی ہے میں نے
کہ یہ فرقت میں انیسِ شبِ تنہائی ہے
لی خبر اپنے مریضِ شبِ غم کی نہ کبھی
بس انہیں باتوں پہ دعوائے مسیحائی ہے
شب فرقت کے جو اے مشتریؔ جاگے تھے ہم
کیا تہہِ خنجرِ قاتل ہمیں نیند آئی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.