Font by Mehr Nastaliq Web

ہم سے سخنِ عجز سنایا نہیں جاتا

نا معلوم

ہم سے سخنِ عجز سنایا نہیں جاتا

نا معلوم

MORE BYنا معلوم

    ہم سے سخنِ عجز سنایا نہیں جاتا

    ہم سے کبھی روٹھے کو منایا نہیں جاتا

    صد شکر کہ طفلی سے جوانی کا بس آنا

    اب ہم سے ترا ناز اٹھایا نہیں جاتا

    ہوتا نہیں کچھ کام بھی اس پردہ نشیں سے

    آیا نہیں جاتا تو بلایا نہیں جاتا

    ہم معرکۂ عشق میں شیرا نہ کھڑے ہیں

    میدان سے اب پاؤں ہٹایا نہیں جاتا

    دیوانہ ہوا جو کوئی مرے حسن پری پر

    نا جنس سے دل اپنا لگایا نہیں جاتا

    کچھ آج عجب حال ہے سینہ میں جگر کا

    سامان اب اچھا ہمیں پایا نہیں جاتا

    کیا اور قیامت میں زباں اپنی میں کھولوں

    بگڑی ہوئی باتوں کو بنایا نہیں جاتا

    میں بندۂ ناچیز وہ ہیں حسن کے سلطاں

    زہراؔ انہیں گھر اپنے بلایا نہیں جاتا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے