ہم سے سخنِ عجز سنایا نہیں جاتا
ہم سے کبھی روٹھے کو منایا نہیں جاتا
صد شکر کہ طفلی سے جوانی کا بس آنا
اب ہم سے ترا ناز اٹھایا نہیں جاتا
ہوتا نہیں کچھ کام بھی اس پردہ نشیں سے
آیا نہیں جاتا تو بلایا نہیں جاتا
ہم معرکۂ عشق میں شیرا نہ کھڑے ہیں
میدان سے اب پاؤں ہٹایا نہیں جاتا
دیوانہ ہوا جو کوئی مرے حسن پری پر
نا جنس سے دل اپنا لگایا نہیں جاتا
کچھ آج عجب حال ہے سینہ میں جگر کا
سامان اب اچھا ہمیں پایا نہیں جاتا
کیا اور قیامت میں زباں اپنی میں کھولوں
بگڑی ہوئی باتوں کو بنایا نہیں جاتا
میں بندۂ ناچیز وہ ہیں حسن کے سلطاں
زہراؔ انہیں گھر اپنے بلایا نہیں جاتا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.