Font by Mehr Nastaliq Web

لگایا میں نے جو تم سے دل کو تمہارے دل پر نہاں نہ ہوگا

نا معلوم

لگایا میں نے جو تم سے دل کو تمہارے دل پر نہاں نہ ہوگا

نا معلوم

MORE BYنا معلوم

    لگایا میں نے جو تم سے دل کو تمہارے دل پر نہاں نہ ہوگا

    اٹھائے صدمے ہیں جتنے میں نے جہاں میں کس پر عیاں نہ ہوگا

    ہے خوف مجھ کو اکیلے گھر کا کہ ہوگا واں پر گذارا کیوں کر

    مدد کو میری جو لطفِ یزداں ندیم و ہمدم وہاں نہ ہوگا

    لگایا گل سے جو دل کو تو نے سمجھ لے دل میں تو اپنے بلبل

    ہیں چند روزہ بہار کے دن یہ گل تو روزِ خزاں نہ ہوگا

    بہت کتابیں پڑھی ہیں تم نے یہ مانا ہم نے اے شیخ صاحب

    چھپاؤ ہم سے نہ حالِ دل کو نہاں یہ عشق بتاں نہ ہوگا

    ہے کیوں سرِدار تجھ کو دہشت شفیع ہوں گے رسولِ داور

    جو زلرے سے بروزِ محشر زمیں نہ ہوگی زباں نہ ہوگا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے