لگایا میں نے جو تم سے دل کو تمہارے دل پر نہاں نہ ہوگا
لگایا میں نے جو تم سے دل کو تمہارے دل پر نہاں نہ ہوگا
اٹھائے صدمے ہیں جتنے میں نے جہاں میں کس پر عیاں نہ ہوگا
ہے خوف مجھ کو اکیلے گھر کا کہ ہوگا واں پر گذارا کیوں کر
مدد کو میری جو لطفِ یزداں ندیم و ہمدم وہاں نہ ہوگا
لگایا گل سے جو دل کو تو نے سمجھ لے دل میں تو اپنے بلبل
ہیں چند روزہ بہار کے دن یہ گل تو روزِ خزاں نہ ہوگا
بہت کتابیں پڑھی ہیں تم نے یہ مانا ہم نے اے شیخ صاحب
چھپاؤ ہم سے نہ حالِ دل کو نہاں یہ عشق بتاں نہ ہوگا
ہے کیوں سرِدار تجھ کو دہشت شفیع ہوں گے رسولِ داور
جو زلرے سے بروزِ محشر زمیں نہ ہوگی زباں نہ ہوگا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.