رہ گئی آ ہ ہی اگر زلفوں کی منزل باقی
رہ گئی آ ہ ہی اگر زلفوں کی منزل باقی
دو پہر رات ابھی اور ہے اے دل باقی
جو جو کرنا ہو ستم تجھ کو وہ کر لے مجھ پر
کوئی ارمان ترا رہ جائے نہ قاتل باقی
وحشتِ عشق میں کی باد یہ گردی ایسی
رہی گھس گھس کے نہ پاؤں میں سلاسل باقی
ایسا نابود کیا ناموروں کو تو نے
کہ نہ قبروں کی بھی اے چرخ رہی گل باقی
بات رہ جائے نداؔ کو جو دکھا دو صورت
حسن رہتا نہیں اے حور شمائل باقی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.