عشق کیا شئے ہے کسی کامل سے پوچھا چاہیے
عشق کیا شئے ہے کسی کامل سے پوچھا چاہیے
کس طرح جاتا ہے دل بے دل سے پوچھا چاہیے
کیا تڑپنے میں مزا ہے قتل ہو پیارے کے ہاتھ
اس کی لذت کو کسی بسمل سے پوچھا چاہیے
جس نے اس کا زخم کھایا ہو اسے معلوم ہے
تیغِ ابرو کی صفت گھائل سے پوچھا چاہیے
یار کے ملنے کی اب کوئی طرح بنتی نہیں
طرح ملنے کی کسی واصل سے پوچھا چاہیے
آہ نالوں کو حقیقت دیکھتا ہوں ہجر میں
کیا گذرتی ہوگی تاباںؔ دل سے پوچھا چاہیے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.