Font by Mehr Nastaliq Web

عشق کیا شئے ہے کسی کامل سے پوچھا چاہیے

نا معلوم

عشق کیا شئے ہے کسی کامل سے پوچھا چاہیے

نا معلوم

MORE BYنا معلوم

    عشق کیا شئے ہے کسی کامل سے پوچھا چاہیے

    کس طرح جاتا ہے دل بے دل سے پوچھا چاہیے

    کیا تڑپنے میں مزا ہے قتل ہو پیارے کے ہاتھ

    اس کی لذت کو کسی بسمل سے پوچھا چاہیے

    جس نے اس کا زخم کھایا ہو اسے معلوم ہے

    تیغِ ابرو کی صفت گھائل سے پوچھا چاہیے

    یار کے ملنے کی اب کوئی طرح بنتی نہیں

    طرح ملنے کی کسی واصل سے پوچھا چاہیے

    آہ نالوں کو حقیقت دیکھتا ہوں ہجر میں

    کیا گذرتی ہوگی تاباںؔ دل سے پوچھا چاہیے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے