Font by Mehr Nastaliq Web

ویران اور حسن کا منظر لیے ہوئے

نشور واحدی

ویران اور حسن کا منظر لیے ہوئے

نشور واحدی

MORE BYنشور واحدی

    ویران اور حسن کا منظر لیے ہوئے

    اللہ رے دل تخیل دلبر لیے ہوئے

    میں لطف اٹھا رہا ہوں دل و دلنواز کا

    آئینہ آفتاب کے رخ پر لیے ہوئے

    کتنوں کو ہوش تک نہ رہا اپنے آپ کا

    گزرے جو آپ زلف معنبر لیے ہوئے

    خود پی لیں یا پلا دیں کسی تشنہ کام کو

    کیا دیکھتے ہیں ہاتھ میں ساغر لیے ہوئے

    خاک لحد میں سوئیں گے یہ فتنہ گر تو کیا

    اٹھیں گے پھر یہ فتنۂ محشر لیے ہوئے

    یہ مطربان بزم تو کچھ راز دل نشورؔ

    ہیں پردہ رباب کے اندر لیے ہوئے

    مأخذ :
    • کتاب : تذکرہ شعرائے اتر پردیش جلداٹھارہویں (Pg. 309)
    • Author : عرفان عباسی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے