سنبھالو تیغِ ادا کو ذرا سنو تو سہی
سنبھالو تیغِ ادا کو ذرا سنو تو سہی
کسی کی آ نہ گئی ہو قضا سنو تو سہی
نہ پائمال کرو مل کے ہاتھ میں مہندی
کسی کا خون کرے گی حنا سنو تو سہی
غضب ہے ہم کو کھلے بند دیکھنا محرم
وہ اگلی کیا ہوئی شرم و حیا سنو تو سہی
رقیب سائلِ بوسہ ہوا تو کچھ نہ کہا
ہمیں سے ہو گئے الٹے خفا سنو تو سہی
ابھی تمیز کہاں تم کو دلربائی میں
کسی سے قصۂ ناز و ادا سنو تو سہی
لڑائی ہو چکی بس دور بھی کرو قصہ
ملو وحیدؔ سے بہر خدا سنو تو سہی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.