Font by Mehr Nastaliq Web

اک ہمارے ہی دل پر ہے نہیں اثر تنہا

واصل عثمانی

اک ہمارے ہی دل پر ہے نہیں اثر تنہا

واصل عثمانی

MORE BYواصل عثمانی

    اک ہمارے ہی دل پر ہے نہیں اثر تنہا

    چھٹ کے آپ بھی ہم سے روئے عم بھر تنہا

    جس طرف سے گذرے تھے ساتھ ساتھ وہ میرے

    اب کبھی نہ ہو یارب اس طرف گذر تنہا

    آج ان کی محفل سے اس طرح سے نکلے ہیں

    آنکھ اداس دل ویراں سب سے بے خبر تنہا

    دیکھیے تو ہر اک سے سلسلے ہیں رشتے ہیں

    سوچیے تو دنیا میں ہے ہر اک بشر تنہا

    آج دیدۂ و دل سے کیا سلوک ہو یا رب

    ان کے سیکڑوں جلوے اور ادہر نظر تنہا

    رہ گزرِ ہستی کا دیکھ کر یہ سناٹا

    سوچتا ہوں میں واصلؔ آ گیا کدھر تنہا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے