Font by Mehr Nastaliq Web

پرتو سے ترے نور کے اے ماہ جبیں آج

ظہیر عظیم آبادی

پرتو سے ترے نور کے اے ماہ جبیں آج

ظہیر عظیم آبادی

MORE BYظہیر عظیم آبادی

    پرتو سے ترے نور کے اے ماہ جبیں آج

    شرمندہ ہے مہ اور خجل مہر مبیں آج

    نکلا جو نہیں چرخ پہ ہے ماہ مبیں آج

    ہے جلوہ نما بام پہ شایدوہ حسیں آج

    آنکھیں مری مدت سے یہ ہیں منتظر دید

    دکھلا دے مجھے جلوہ ذرا پردہ نشیں آج

    پھولے نہ سماتا ہوں میں اس جامۂ تن میں

    ہے کعبۂ دل میں مرے وہ یار مکیں آج

    جن و بشر و حور و ملک لوح و قلم عرش

    اس باعث عالم کے ہیں سب زیر نگیں آج

    مضطر ہے یہ دل عشق میں اس شوخ کے بے طرح

    بتلا دے کوئی مجھ کو کہاں ہے وہ حسیں آج

    فرقت میں ترے باد شہ یثرب و بطحا

    ہے خستہ ظہیرؔ ابتر و مخرون و حزیں آج

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے