پرتو سے ترے نور کے اے ماہ جبیں آج
پرتو سے ترے نور کے اے ماہ جبیں آج
شرمندہ ہے مہ اور خجل مہر مبیں آج
نکلا جو نہیں چرخ پہ ہے ماہ مبیں آج
ہے جلوہ نما بام پہ شایدوہ حسیں آج
آنکھیں مری مدت سے یہ ہیں منتظر دید
دکھلا دے مجھے جلوہ ذرا پردہ نشیں آج
پھولے نہ سماتا ہوں میں اس جامۂ تن میں
ہے کعبۂ دل میں مرے وہ یار مکیں آج
جن و بشر و حور و ملک لوح و قلم عرش
اس باعث عالم کے ہیں سب زیر نگیں آج
مضطر ہے یہ دل عشق میں اس شوخ کے بے طرح
بتلا دے کوئی مجھ کو کہاں ہے وہ حسیں آج
فرقت میں ترے باد شہ یثرب و بطحا
ہے خستہ ظہیرؔ ابتر و مخرون و حزیں آج
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.