Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama

ذلت عشق کو سمجھے ہوئے عزت رہئے

شاہ امیرالدین فردوسی

ذلت عشق کو سمجھے ہوئے عزت رہئے

شاہ امیرالدین فردوسی

ذلت عشق کو سمجھے ہوئے عزت رہئے

کتنا ہی اس کے سبب باب مذلت رہئے

گر حقیقی نہیں بے لوث مجازی ہی سہی

رہ کئے عشق سے پیدا کسی بابت رہئے

مذہب عشق سے وسعت نہیں رکھتا کوئی

اختیار اس کا کیے مذہب و ملت رہئے

دوستی ہی کا پڑے راہ طلب میں ہر گام

آشنائی کے بس آوارۂ غربت رہئے

لاگ سے لاگ رہے دل کو بہر حال اے وجدؔ

سوز با ساز میں جس حال میں حضرت رہئے

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY
بولیے