جو پھول چمن میں ہے وہ زینت کے لیے ہے
جو پھول چمن میں ہے وہ زینت کے لیے ہے
عبرت کے لیے سمجھو تو غیرت کے لیے ہے
یا دل کا لہو دردِ محبت کے کے لیے ہے
یا سرخیٔ افسانۂ فرقت کے لیے ہے
رنگینیٔ دنیا ہو کہ نیرنگی عالم
جو کچھ ہے وہ احساس حقیقت کے لیے ہے
پھر طور پہ آئیں تو ضیاؔ ان سے یہ پوچھیں
کیا اور بھی جلوہ کوئی حیرت کے لیے ہے
- کتاب : ماہنامہ مشورہ، آگرہ (Pg. 502)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.