Font by Mehr Nastaliq Web

جو پھول چمن میں ہے وہ زینت کے لیے ہے

ضیا اکبرآبادی

جو پھول چمن میں ہے وہ زینت کے لیے ہے

ضیا اکبرآبادی

MORE BYضیا اکبرآبادی

    جو پھول چمن میں ہے وہ زینت کے لیے ہے

    عبرت کے لیے سمجھو تو غیرت کے لیے ہے

    یا دل کا لہو دردِ محبت کے کے لیے ہے

    یا سرخیٔ افسانۂ فرقت کے لیے ہے

    رنگینیٔ دنیا ہو کہ نیرنگی عالم

    جو کچھ ہے وہ احساس حقیقت کے لیے ہے

    پھر طور پہ آئیں تو ضیاؔ ان سے یہ پوچھیں

    کیا اور بھی جلوہ کوئی حیرت کے لیے ہے

    مأخذ :
    • کتاب : ماہنامہ مشورہ، آگرہ (Pg. 502)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے