Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama

عاشقو پاؤں نہ اکھڑے وہیں ٹھہرے رہنا

شاہ اکبر داناپوری

عاشقو پاؤں نہ اکھڑے وہیں ٹھہرے رہنا

شاہ اکبر داناپوری

عاشقو پاؤں نہ اکھڑے وہیں ٹھہرے رہنا

پردہ اٹھتا ہے رخ یار سے سنبھلے رہنا

عرش پر سے بھی تمہیں کھینچ کے لے آئے گی

کشش عاشق بیتاب سے بچتے رہنا

تڑپ اٹھا دل بے تاب کسی عاشق کا

یہ مرا فرض ہے کہہ دیتا ہوں بچتے رہنا

ڈوب کر بحر محبت میں نکلنا کیسا

پار ہونے کی تمنا ہے تو ڈوبے رہنا

معرکے سے نہیں ہٹتا کوئی عاشق پیچھے

سر ہتھیلی پہ دھرے آگے ہی بڑھتے رہنا

نظر آ جائے جو وہ توبہ شکن اے اکبرؔ

دل کو ہاتھوں سے دبائے ہوئے بیٹھے رہنا

مأخذ :
  • کتاب : جذاباتِ اکبر (Pg. 38)
  • Author : شاہ اکبرؔ داناپوری
  • مطبع : آگرہ اخبار پریس، آگرہ (1915)
  • اشاعت : First

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY
بولیے